بنگلورو:30/مارچ (ایس او نیوز) رکن قانون ساز کونسل و یوتھ کانگریس صدر رضوان ارشد نے ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر کے یس ایشورپا کے ذریعہ دئے گئے اس بیان پر کہ اگر مسلمانوں کو اگلے انتخابات میں بی جے پی ٹکٹ چاہئے تو پہلے وہ بی جے پی دفتر کا کچرا صاف کریں، آج شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی کے ساتھ ہی فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہوگء ہیں۔ اردو اخبارات کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ن ے بتایا کہ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یو پی میں اقتدار بی جے پی کی پالیسیوں کے سبب نہیں ملی، بلکہ اس کیلئے اس نے گزشتہ پانچ برسوں سے دس ہزار چھوٹے بڑے فسادات کراکے اور باہمی الفت کو ختم کرتے ہوئے نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ نتائج کے بعد بی جے پی نے یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ جیسے اشتعال انگیز قائد کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا کر یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنے خفیہ ایجنڈہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ اب یوگی کے ذریعہ اترپردیش کے نہ صرف مسلمانوں بلکہ پسماندہ دلت طبقات کو منظم طریقہ سے کچل دیا جائیگا۔ اقتدار ملنے کے بعد سے اب اتر پردیش کے عوام گشت نہیں کھا سکتے ہیں۔ جناب رضوان ارشد نے بتایا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ کے ساتھ اقتدار پر آنے والی بی جے پی نے یہ ثابت کرادیا کہ یوگی کے ذریعہ ہندو راشٹرا بنانے کی پہل کی گئی۔ ایسے میں کیا عوام یہ سب دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں یا دیکھنا ہی نہیں چاہتے؟۔ انہوں نے بتایا کہ اب بی جے پی کے ذریعہ کرناٹک میں بھی یو پی کے فارمولہ کو اپنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ساحلی کرناٹک میں اس نے کئی ناپاک تجربات بھی کئے، مگر سدارامیا قیادت والی کانگریس حکومت نے سنگھ پریوار کی سازشوں کو پوری طرح ناکام بنادیا ہے۔ اب امت مسلمہ کے ہر فرد، نوجوان، ذمہ داران مساجد اور ائمہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کو بگڑنے نہ دیں۔ جناب رضوان ارشد نے واضح طور پر بتایا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات تک کاوقت مسلمانوں کیلئے کافی کٹھن ہے، کیونکہ سنگھ پریوار کے لوگ اقتدار کیلئے کسی بھی طرح کی سازش کرسکتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ مسلمانوں کو اکسا نے کیلئے سنگھ پریوار کے ذریعہ ہونے والی لاکھ کوششوں کے باوجود ہمیں پورے صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جوش کے بجائے ہوش کا مظاہرہ کیا جائے۔ غیر مسلموں کے ساتھ بہترین تعلقات پیدا کرتے ہوئے پیار و محبت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کے تہواروں اور خوشیوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بگڑے ہوئے حالات کو سدھارنے کی پوری ذمہ داری صرف سکیولر پارٹیوں کی نہیں ہے بلکہ سکیولر مزاج لوگوں کو بھی نچلی سطح پر یہ کام کرنا ہوگا۔ گوشت پر پابندی کے معاملہ میں انہوں نے بتایا کہ گوشت اور چمڑے کے کاروبار میں صرف 25 فیصد مسلمان شامل ہیں۔ بلکہ اس سے منسلک غیر مسلموں کی تعداد 75 فیصد ہے۔ مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کے مقصد سے بی جے پی کے ذریعہ اس طرح کے احمقانہ فیصلے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوں اور مسلمانوں میں خلا پیدا کرنے کے ذریعہ بی جے پی اقتدار پر آنے کی کوشش کررہی ہے، جسے ناکام بنانا تمام سکیولر مزاج احباب کی ذمہ داری ہے۔